ذکر حضرت امام حسین علیہ السلام ہمارے لئے نجات کا ذریعہ

ذکر حضرت امام حسین علیہ السلام ہمارے لئے نجات کا ذریعہ

ہدایت اﷲ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے ایک فریضہ ہے۔ ہدایت کا جو بھی نظام ہوگا، اُس کی بقاواجب ہے۔ قاعدہ، کُلیہ اور کسوٹی یہ ہے کہ ذکرِ حضرت امام حسین علیہ السلام کیوں کہ ہدایت کا ذریعہ ہے اور ہر وہ کام جو ہدایت کا ذریعہ ہے، اُس کی بقا واجب ہے۔
ذکرِ حضرت امام حسین علیہ السلام کیوں کہ ہدایت کا ذریعہ ہے، انسانیت کے فروغ کا ذریعہ ہے، لوگوں کو اَخلاقیات کی تعلیم و تربیت دینے کا ذریعہ ہے، دینِ اسلام کی بقا کا ذریعہ ہے، قرآن کریم کے تحفظ کا ذریعہ ہے، اقدار کی بحالی کا ذریعہ ہے، لہٰذا ہر وہ شے جو ہدایت کا ذریعہ ہو، اُس کی بقا واجب ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کے ذکر میں حسبِ دستور لوگوں کی ماشاء اﷲ بھرپور شرکت ہے، اور کیوں نہ ہو، جس کا ارادہ اﷲ نے کِیا ہے، جسے ﷲ زندہ دیکھنا چاہتا ہے، جس کے پیچھے حضرتِ بی بی زہرا ؑ کی نگاہِ خاص ہے۔ تذکرہ امام حسین علیہ السلام یقینا ہماری جان ہے۔ اس لیے کہ جان ہوگی تو ہم نماز پڑھیں گے، جان ہوگی تو ہم روزہ رکھیں گے۔ ذکرِ شاہ شہیدانِ کربلا ؑ ہماری جان ہے، جان ہوتی ہے تو ہم اﷲ کے حضور حاضری دیتے ہیں۔
اور اب آئیے ہم سورۂ مبارکہ احزاب کی تیئسویں آیت کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے، ’’ ایمان داروں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ خدا سے انہوں نے (جاں نثاری کا) جو عہد کیا تھا اُسے پورا کر دکھایا غرض ان میں سے بعض وہ ہیں جو اپنا وقت پورا کرگئے اور ان میں سے بعض (حکمِ خدا کے ) منتظر بیٹھے ہیں اور ان لوگوں نے اپنی بات ذرا بھی نہیں بدلی۔‘‘
یہ وہ آیت ہے جسے امام حسینؑ نے روزِ عاشورہ شہداء کے جنازوں پہ تلاوت کیا۔ جب جناب حبیب ابنِ مظاہر ؑ کا لاشہ لائے، تب حسین ابنِ علیؑ نے اس آیت کو دہرایا۔ جب جناب مُسلم ابنِ عوسجہؑ کا لاشہ لائے، تب امام عالی مقام ؑ نے اِس آیۂ کریمہ کی تلاوت فرمائی۔
’’ کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اﷲ سے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔‘‘
اور دُوسروں کو دیکھ کر فرمایا، ’’کچھ ہیں جو اپنے وعدے کو پُورا کرنے کے منتظر ہیں۔‘‘
اور فرمایا کہ ’’ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے کیے ہوئے اِرادے کو، اپنی نیّتوں کو تبدیل کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘ زمین و آسمان ایک ہوجائے، مگر اِن کا نظریہ اِن سے نہیں چُھٹے گا۔ یہ اپنے نظریے پہ باقی و سالم رہیں گے۔
سارا مسئلہ سچائی کا ہے۔ یہ پوری دُنیا چل ہی سچائی کی بنیاد پر رہی ہے۔ اور جہاں بگاڑ ہے، وہ بھی سچائی نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ ہمیں اپنے آپ سے سچا ہونا ہے۔ سچائی کے تین مراحل ہیں۔ پہلے مرحلے پہ ہمیں اپنے آپ سے سچائی کی ضرورت ہے۔ دوسر ے مرحلے پہ اپنے اہلِ خانہ سے سچائی کی ضرورت ہے۔ اہلِ خانہ سے سچائی، عزیز و اقارب سے سچائی اور صلۂ رحمی، پڑوسی کا خیال اور ہم وطنوں کا خیال، ہم مذہبوں کا خیال، ہم نظریہ لوگوں کا خیال، کہ اِس کا ہم سے سوال ہوگا۔
اور تیسرا مرحلہ ہے اﷲ سے سچائی، جو زیادہ سخت مرحلہ ہے۔ مذکورہ بالا آیۂ کریمہ میں اﷲ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ جو اﷲ سے سچا ہے، وہ اپنے آپ سے بھی سچا ہے، جو اﷲ سے سچا ہے وہ اپنے جیسوں سے بھی سچا ہے
آیت کریمہ میں اُنہی کا تذکرہ ہے جو اﷲ سے سچے ہیں۔ یہ سب سے بڑا، سخت اور مشکل مرحلہ ہے، اور جو اِس مرحلے سے گزر جاتے ہیں، پھر وہی اِس دنیا میں باقی رہنے والے ہوتے ہیں۔ اُن کے بدنوں پہ گھوڑے دوڑا دیے جاتے ہیں، مگر اُن کے مزارات قیامت تک کے لیے مرجعِ خلائق اور ہدایت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
جب بھی کسی کمال کی جانب بڑھے قدم
دیکھا سُوئے حسین ؑ چلا جارہا ہوں میں

مقالات ذات صله

الرد

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *